[ad_1]

ملک میں جاڑا رنگ دکھانے لگا، پارہ چنار میں برف باری کا 50 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے، آزاد کشمیر میں بارش، برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث نظام زندگی مفلوج ہوگیا ہے، گلگت بلتستان میں بارش و برف باری سے شاہراہ قراقرم اور گلگت اسکردو روڈ لینڈ سلائیڈنگ سے بند ہوگیا، اس کے علاوہ شہر قائد بھی ٹھنڈی ٹھار ہواؤں کی لپیٹ میں آگیا، جہاں کم سے کم درجہ حرارت 4 ڈگری تک محسوس کیا گیا ہے۔
پارا چنار میں 14 انچ برف پڑنے سے نیا ریکارڈ بن گیا، جہاں درجہ حرارت منفی 13 ڈگری ریکارڈ کیا گیا جب کہ وسطی اور بالائی کرم میں ڈھائی فٹ سے زیادہ برف پڑچکی ہے۔ اسکردو میں برف باری کے بعد وادی کے نظارے دلفریب ہوگئے، سیاحوں اور مقامی نوجوان بڑی تعداد میں نکل آئے۔
وادی تیراہ کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 100 کے قریب گاڑیاں روڈ پر پھنس گئیں، جہاں پاک فوج نے پھنسے ہوئے 20 شہریوں کو ریسکیو کرلیا، پاک فوج کے جوان ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے میں مصروف ہیں جب کہ متاثرہ افراد کو خوراک، گرم کپڑے اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔
کرک کے دور افتادہ علاقوں میں 80 سال بعد برف باری ہوئی، گرگری اور بشی میں تقریباً 3 انچ تک برف پڑی، جہاں پارہ منفی 4 تک گرگیا ہے۔ آزاد کشمیر میں برف باری سے شہریوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے، جہاں وادیاں اور چوٹیاں برف سے ڈھک گئیں۔
ضلع خیبر کی تحصیل وادی تیراہ میں برف باری کے بعد ریسکیو آپریشن جاری ہے، 60 افراد اور 25 گاڑیاں ریسکیو کرلی گئیں، فوجی جوان بھی آپریشن میں شریک ہیں۔ ریسکیو آپریشن میں 23 گاڑیوں اور بھاری مشینری کا استعمال کیا جارہا ہے جب کہ پشاور، مردان، صوابی اور نوشہرہ سے ٹیمیں طلب کرلی گئیں۔
کراچی میں جاڑے نے دھوم مچا دی ہے، شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 7.4 ڈگری ریکارڈ کیا گیا، ٹھنڈی ہواؤں کے باعث سردی کی شدت 4 ڈگری محسوس کی گئی۔
مری میں شدید برف باری کے بعد ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، مری کے اندر موجود 5 ہزار گاڑیوں کو بحفاظت نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق ہیوی مشینری، کرینیں اور لوڈرز شاہراہوں سے برف ہٹانے میں مصروف ہیں، حدِ نگاہ صفر ہونے کے باعث مزید گاڑیوں کے داخلے پر پابندی لگادی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر کا مزید کہنا ہے کہ سیاحوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے، تمام وسائل انخلا کے لیے وقف کردیے ہیں، شہریوں کو مری کا سفر فوری ترک کرنے اور گاڑیوں میں ہیٹر استعمال کرنے والے آکسیجن کا خیال رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مری، کشمیر اورگلگت بلتستان میں شدید برفباری کے دوران پاک فوج کا ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری ہے، فوجی جوان بچوں، بزرگوں اور خواتین کو برف میں دھنسی گاڑیوں سے نکال کرمحفوظ مقامات تک پہنچا رہے ہیں جب کہ ریسکیو کیے گئے افراد کو پاک فوج کی جانب سے خوراک، طبی امداد اور گرم کمبل بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ مری میں بہت زیادہ برف باری ہوئی، جہاں تمام ہوٹل بھر چکے ہیں، مری میں گنجائش سے زیادہ گاڑیاں داخل ہوگئیں جب کہ مزید گاڑیوں کے داخلے کی گنجائش نہیں۔
عظمیٰ بخاری نے سیاحوں کو مری کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ مری میں سیاحوں کی حفاظت حکومت کی پہلی ترجیح ہے، مری میں سیاحوں کی بڑی تعداد پہلے سے موجود ہے، التماس ہے شہری مری کے سفر سے اجتناب کریں۔
[ad_2]
